٠٥‏/٠٩‏/٢٠١٠

نظریات صوفیاء پر تھوڑا سا تبصرہ

قرآن تو پورا کا پورا شرک ہے ۔ توحید تو ہمارے کلام میں ہے ۔

بحوالہ : الرسائل و المسائل ، ابن تیمیہ ، ج : 1 ، ص : 145


فصوص الحکم ، ابن عربی کی تصنیف کردہ کتاب ہے جو ابن عربی کے باطل عقائد اور کفر و شرک کا مجموعہ ہے۔

ابن عربی رقمطراز ہے :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اسے فصوص الحکم کتاب دی اور کہا : اسے لے کر لوگوں کے پاس نکلو ، وہ مستفید ہوں گے ۔

ابن عربی کہتا ہے :

ویسا ہی ہوا جیسا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا تھا اور میرے خواب کی تعبیر مکمل ہو گئی ۔ اس کے بعد ابن عربی یوں خطاب کرتا ہے :

فمن اللہ ، فاسمعوا :: والی اللہ فارجعوا

بحوالہ : فصوص الحکم ، ص : 40 ، شرح بالی ، مطبوعہ 1309ھ ۔



اہلِ تصوف کا ایک اور پیشوا ابن عجیبہ فاطمی لکھتا ہے :

علمِ تصوف کے موسس و بانی خود نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں ، جن کو اللہ تعالیٰ نے تصوف کا علم بذریعہ الہام عطا کیا۔ جبریل علیہ السلام پہلے علمِ شریعت لے کر نازل ہوئے ، جب یہ علم مکمل ہو گیا تو دوسری بار علمِ حقیقت لے کر نازل ہوئے ۔ ان دونوں علوم سے الگ الگ قسم کے لوگ بہرہ ور ہوئے ۔ جس نے سب سے پہلے اس علم کا اظہار کیا وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں ۔ آپ سے یہ علم حضرت حسن بصری نے حاصل کیا۔

بحوالہ : ایقاظ الھمم فی شرح الحکم ، ابن عجیبہ ، جلد 1 ، ص 5 ، مطبوعہ : 1913ھ ۔



نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے تو علم چھپانے والوں کے متعلق ارشاد فرمایا ہے :

من کتم علماََ یعلمہ ایاہ الجم یوم القیامہ بلجام من نار

جو علم کو چھپائے گا تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی۔

(ابو داؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ)



تصوف کا ایک اور عظیم پیشوا ابن فارض ( عمر بن ابی الحسین علی بن المرشد بن علی شرف الدین ، متوفی : 632ھ ) ہے ۔ ابن فارض کے نزدیک خالق اور مخلوق، رب اور بندہ ، اللہ اور ایک معدوم شئے میں کوئی فرق نہیں ۔

اللہ کی ذات تمام موجود اور غیر موجود اشیاء میں موجود ہے ، لہذا ایک معدوم شئے بھی ابن فارض کا رب ہے ۔

یعنی ابن فارض کا رب ایک جانور بھی ہے اور ایک بےجان پتھر بھی ، انسان بھی ہے اور جنات بھی ، ایک بت بھی ہے اور دل و دماغ میں پیدا ہونے والا وہم و گمان بھی ۔

فطری اور منطقی طور پر اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک گناہگار جو گناہ کرتا ہے دراصل وہ گناہ نہیں کرتا بلکہ اس کی شکل میں خود اللہ گناہ کرتا ہے ، اس لیے کہ وہ انسان ہے اور انسان بھی عین اللہ ہے ۔

اسی طرح ایک بھیڑیا کسی جانور کا جب گوشت کھاتا ہے تو فی الواقع اس کی صورت میں اللہ اس جانور کا گوشت کھا رہا ہے ، کیونکہ مذہبِ تصوف میں حیوان بھی اللہ ہے ۔

ابن فارض کے یہ عقائد اس کی مشہور تصنیف " تائیہ " میں ہیں ۔



ابن فارض خود کو ذاتِ الٰہی کہتے ہوئے نہیں شرماتا ۔

آگے بڑھ کر اپنے عظیم صفات و کمالات میں یہ بھی اضافہ کرتا ہے کہ جتنے بھی پیغمبر وجود میں آئے وہ سب ابن فارض کی ذات تھی ۔

اسی طرح نوعِ انسانی کے بابائے اول حضرت آدم (علیہ السلام) اور جن جن فرشتوں نے ان (علیہ السلام) کو سجدہ کیا تھا وہ سب کے سب ابن فارض ہی کی ذات تھی ۔

وفی شھدت الساجدین لمظھری :: فحققت انی کنت آدم سجدتی

(ترجمہ : میں نے سجدہ کرنے والوں کو دیکھا کہ میرا سجدہ کر رہے ہیں ، تو یہ ثابت ہو گیا کہ میں ہی آدم تھا جس کو سجدہ کیا گیا )



اس شعر کی تشریح ، صوفیت کا ایک اور پیشوا قاشانی یوں کرتا ہے :

یعنی میں نے دیکھا کہ ملائکہ میرا سجدہ کر رہے ہیں ، لہذا مجھے معلوم ہو گیا کہ آدم کے سامنے فرشتوں نے جو سجدے کیے تھے ، وہ سجدے دراصل مجھے ہی کیے گئے تھے ۔ ملائکہ میرے سامنے سجدے کرتے ہیں اور وہ میری صفات میں سے ایک صفت رکھتے ہیں لہذا ہر سجدہ کرنے والا میری ہی صفت سے ہم آہنگ ہے جو میری ہی ذات کے لیے سجدہ ریز ہوتا ہے ۔

بحوالہ : کشف الوجوہ الغر ، شرح الدیوان کا حاشیہ ، جلد 2 ، ص 89 ، مطبوعہ 1310ھ ۔



مذہبِ تصوف کا ایک نامور پیشوا تلسمانی لکھتا ہے :

ہمارے دین میں ماں اور بہن سے رشتہ جائز ہے اور جو لوگ اس کو حرام قرار دیتے ہیں وہ محجوب اور بےعقل ہیں ۔

بحوالہ : مجموعہ الرسائل و المسائل ، ابن تیمیہ ۔ ج 1 ، ص 177 ۔



ابن عربی ( محمد بن علی بن محمد الخاتمی الطائی الاندلسی ، متوفی : 638ھ ) کائنات کی ہر موجود اور غیر موجود شئے کو اللہ تعالیٰ کی ذات قرار دیتا ہے۔

سبحان من اظھر الاشیاء وھو عینھا بحوالہ : الفتوحات المکیہ ، ابن عربی ۔ ج 2 ، ص 204 ۔

اور وہ (ابن عربی) اللہ تعالیٰ کی تعریف یوں کرتا ہے :

پاک ہے وہ ذات جس نے تمام اشیاء کوظاہر کیا اور وہی ان اشیاء کا ظاہر و باطن ہے ۔

بحوالہ : فصوص الحکم ، شرح قاشانی ، ص 382 ۔



تصوف کا ایک اور عظیم پیشوا جیلی لکھتا ہے :

حق تعالیٰ شانہ کی ذات جس چیز میں بھی ظاہر ہو جائے اس کی عبادت و پرستش واجب ہے ۔اور اس کی ذات کائنات کے ہر ذرہ میں ظاہر ہے ۔

بحوالہ : الانسان الکامل ، جیلی ۔ ج 2 ، ص 83 ۔



مذہبِ تصوف کا شیخ اکبر ، ابن عربی ۔۔۔ کتاب فصوص الحکم میں لکھتا ہے۔



جب کوئی مرد عورت سے محبت کرتا ہے ، جسمانی ملاپ کا مطالبہ کرتا ہے ۔ یعنی محبت کی آخری حد جو محبت کا آخری ہدف ہوتا ہے ۔ مرد و عورت کے جسمانی ملاپ سے بڑھ کر کوئی اور عنصری ملاپ کی صورت نہیں ہوتی ، اس لیے شہوت عورت کے پورے بدن میں پھیل جاتی ہے ۔ اسی لیے جنسی ملاپ کے بعد غسل کا حکم دیا گیا ہے ، چونکہ غسل سے طہارت بھی پورے جسم کو عام ہوجاتی ہے جس طرح حصولِ شہوت کے وقت مرد اس کے اندر مکمل طور پر فنا ہو گیا تھا ۔ لہذا حق (اللہ تعالیٰ) اپنے بندہ پر بڑا غیور ہے کہ وہ اسے چھوڑ کر کسی اور کے ساتھ لذت حاصل کرے ۔ اسی لیے غسل کا حکم دے کر اسے پاک کر دیا ۔ تاکہ اس کو یہ پتا چلے کہ اس نے اس عورت کے ساتھ جنسی ملاپ جو کیا ہے ، دراصل اس عورت کی شکل میں اللہ ہی تھا ۔



جب کوئی شخص مرد عورت کے اندر حق کا مشاہدہ کرتا ہے عورت میں ایک جذباتی اور انفعالی صورت میں رب کا مشاہدہ کرتا ہے اور جب اپنے اندر رب کا مشاہدہ کرتا ہے تو فاعل کی شکل میں کرتا ہے ۔ اور انفعالی صورت میں مشاہدہ نہیں کرتا ۔ اسی لیے عورت جب جنسی ملاپ کرتی ہے تو اللہ بدرجہ اتم اس کے اندر ظاہر ہوتا ہے ، کیونکہ اس کی حالت فاعل اور منفعل دونوں کی ہوتی ہے ۔



لہذا مرد اس وقت اپنے رب کو اس عورت کی شکل میں زیادہ اچھی طرح جلوہ گر پاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے عورتوں سے محبت کی ۔ اسی لیے عورتوں کے اندر اللہ کا مشاہدہ زیادہ اچھی طرح پاتا ہے ۔ اور حق کا مشاہدہ تو مادہ کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ حق (اللہ تعالیٰ) کا مشاہدہ عورتوں کے اندر زیادہ سے زیادہ اور مکمل طور پر انجام پاتا ہے ، خاص طور پر اس وقت جب وہ جنسی ملاپ کر رہی ہو۔

بحوالہ : فصوص الحکم ، ابن عربی ۔ ج 1 ، ص 317 ۔





قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ :



دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے !

(سورہ اٰل عمرٰن 3 ، آیت : 19)



اللہ کے بنائے ہوئے اور نازل کیے ہوئے دین کا نام بہرحال "تصوف" نہیں ہے !!



نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) اور خیرالقرون کے صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم اجمعین) کی ساری زندگی کتاب و سنت سے ہی عبارت تھی۔ ان تمام سے ایسا کوئی قول ثابت نہیں کہ انہوں نے خود کو کبھی تصوف نامی کسی مذہب سے جوڑا ہو۔



عقیدۂ حلول کے مطابق :

انسان اپنے آئینۂ دل کو اتنا لطیف اور صاف بنا لیتا ہے کہ خدا کی ذات خود اس کے جسم میں داخل ہو جاتی ہے یا حلول کر جاتی ہے۔



خدا کا کسی انسان کے جسم میں حلول کر جانے کا عقیدہ یہود و نصاریٰ میں بھی پایا جاتا تھا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَقَالَتِ الْيَھودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللّہ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللّہ ذَلِكَ قَوْلُھم بِھفْوَاھمْ يُضَاھؤُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَبْلُ

اردو ترجمہ : طاہر القادری

اور یہود نے کہا: عزیر (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں اور نصارٰی نے کہا: مسیح (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کا (لغو) قول ہے جو اپنے مونہہ سے نکالتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے قول سے مشابہت (اختیار) کرتے ہیں جو (ان سے) پہلے کفر کر چکے ہیں

( سورہ التوبہ : 9 ، آیت : 31 )



ایک دوسرے مقام پر قرآن ، اس عقیدہ کی مزید وضاحت یوں کرتا ہے:

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُواْ ھنَّ اللّہ ھوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ

اردو ترجمہ : طاہر القادری

درحقیقت ایسے لوگ کافر ہوگئے ہیں جنہوں نے کہا کہ اﷲ ہی مسیح ابنِ مریم (علیہما السلام) ہے

( سورہ المآئدہ : 5 ، آیت : 72 )



اسلام میں "عقیدۂ حلول" کی داغ بیل عبداللہ بن سبا یہودی نے ڈالی تھی۔ قرون اولیٰ میں یہودیوں کو جو ذلت نصیب ہوئی اس کا انتقام لینے کے لیے عبداللہ بن سبا منافقانہ طور پر مسلمان ہوا کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ عملی میدان میں مسلمانوں سے انتقام لینے کی سکت اب یہودیوں میں باقی نہیں رہ گئی ہے ، لہذا مسلمانوں کے عقائد میں تفرقہ کے بیج بو کر اس نے تشتت و انتشار پیدا کر دیا۔



عبداللہ بن سبا کا یہ عقیدہ حلول ، اس کے پیروکاروں نصیریہ ، کیسانیہ ، قرامطیہ اور باطنیہ سے ہوتا ہوا صوفیا کے اندر داخل ہو گیا !



حسین بن منصور حلاج



حسین بن منصور حلاج (م:309ھ) اس عقیدہ کے علمبردارِ اعلیٰ تسلیم کئے جاتے ہیں منصور حلاج کا دعویٰ تھا کہ : خدا اس کے اپنے اندر حلول کر گیا ہے !!



منصور حلاج اپنے اسی عقیدے کے سبب " انا الحق " کا نعرہ لگاتا تھا۔

اس کے اپنے مندرجہ ذیل اشعار ملاحظہ فرمائیں :



عَقَدَ الخلائقُ في العقائدا

وانا اعتقدت جميع ما اعتقدو

الٰہ کے بارے میں لوگوں کے بہت سے عقیدے ہیں اور میں ان سب عقیدوں پر عقیدہ رکھتا ہوں۔



كفرت بدين اللہ والكفر واجب

لديّ وعند المسلمين قبيح

میں اللہ کے دین سے کفر کرتا ہوں اور یہ کفر میرے لیے واجب ہے جبکہ تمام مسلمانوں کے نزدیک یہ برا ہے۔

ديوان الحلاج:ص(34)



حسین بن منصور سمجھانے کے باوجود بھی جب اپنے اس عقیدہ پر مصر رہا تو بالآخر اسے خلیفہ بغداد "المقتدر باللہ" نے 24۔ذی قعدہ 309ھ (914 سن عیسوی) کو بغداد میں قتل کرا دیا اور اس "الحق " کی لاش کو جلا کر دریا میں پھینک دیا گیا۔



حلاج کے متعلق ابن عربی نے اپنی کتاب "فتوحات مکیہ" میں ایک اور واقعہ نقل کیا ہے کہ :

مشہور بزرگ شیخ ابوعمرو بن عثمان مکی ، حلاج کے سامنے سے گزرے اور پوچھا کہ کیا لکھ رہے ہو؟

حلاج نے جواب دیا : قرآن کا جواب لکھ رہا ہوں۔

یہ سن کر ابوعمرو بن عثمان مکی نے بد دعا کی اور انہی کی بد دعا کا نتیجہ تھا کہ حلاج قتل کر دیا گیا۔



اتنے شدید جرم کے باوجود صوفیاء کی اکثریت نے حلاج کے حق پر ہونے اور حلاج کو سزا دینے والوں کے باطل پر ہونے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ ذیل میں ان صوفیاء کے چند ارشادات ملاحظہ فرمائیں۔



حضرت علی ہجویری

انہیں میں سے مستغرق معنیٰ ابوالغیث حضرت حسین بن منصور حلاج رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ سرمستان بادۂ وحدت اور مشتاقِ جمالِ احدیث گزرے ہیں اور نہایت قوی الحال مشائخ تھے۔

بحوالہ:کشف المحجوب ، ص:300



مولانا روم

گفت فرعونے اناالحق گشت پست

گفت منصورے اناالحق گشت مست

لعنتہ اللہ ایں انارا درقفا

رحمتہ اللہ ایں انارا درقفا

اردو ترجمہ : عبدالرحمٰن کیلانی

فرعون نے "انا الحق" کہا تو ذلیل ہو گیا اور منصور نے "انا الحق" کہا (عشق و محبت میں) تو مست قرار پایا۔ فرعون کی خودی کے لیے تو بعد میں اللہ کی لعنت ہی رہ گئی اور منصور کی خودی کے لیے بعد میں اللہ کی رحمت رہی ہے۔

بحوالہ :مثنوی روم



خواجہ نظام الدین اولیاء ، دہلی

خواجہ نظام الدین اولیاء (م:725ھ) حلاج کی بزرگی کے اس قدر قائل تھے کہ آپ نے فرمایا :

ذکر مشائخ کا ہو رہا تھا۔ بندہ نے عرض کیا کہ سیدی احمد (سید احمد رفاعی) کیسے تھے؟ آپ نے فرمایا : وہ بزرگ شخص تھے۔ عرب کا قاعدہ ہے کہ جب کسی کو بزرگی سے یاد کرتے ہیں تو اسے سیدی کہتے ہیں۔ وہ شیخ حسین بن منصور حلاج کے زمانے میں تھے۔ جب کہ ان کو جلایا گیا اور ان کی خاک دجلہ میں ڈالی گئی۔ سیدی احمد نے ذرا سی خاک اس میں سے تبرکاً اٹھا کر کھالی تھی۔ یہ ساری برکتیں اسی سبب سے انہیں حاصل تھیں۔

بحوالہ :فوائد الفواد ، ملفوضات نظام الدین اولیاء صاحب ، مرتبہ: خواجہ حسن دہلوی ، ص:471



احمد رضا خان فاضل بریلوی

فاضل بریلوی صاحب سے سوال کیا گیا :

حضرت منصور و تبریز و سرمد نے ایسے الفاظ کہے جن سے خدائی ثابت ہے ، لیکن وہ ولی اللہ گنے جاتے ہیں اور فرعون ، شداد ، ہامان و نمرود نے دعویٰ کیا تھا تو مخلد و النار ہوئے ، اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب :

" ان کافروں نے خود کہا اور ملعون ہوئے اور انہوں نے خود نہ کہا۔ اس نے کہا جسے کہنا شایاں ہے اور آواز بھی انہی سے مسموع ہوئی۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے درخت سے سنا ' انی انا اللہ' میں ہوں رب اللہ سارے جہاں کا ، کیا درخت نے کہا تھا؟ حاشا بلکہ اللہ نے۔ یونہی یہ حضرات اس وقت شجرِ موسیٰ ہوتے ہیں۔"

بحوالہ :احکام شریعت ، ص:93



حلاج کے متعلق اب دوسرا رُخ ملاحظہ فرمائیں جس سے حلاج کے کفر کی وضاحت ہوتی ہے۔



امام ابن تیمیہ

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حلاج فنا میں ڈوب گیا اور باطنی حقیقت سے معذور تھا، مگر ظاہری طور پر اس کا قتل واجب تھا اور کچھ دوسرے اسے شہید ، فنا فی اللہ ، موحد اور محقق کہتے ہیں۔ یہ لوگ شریعت کی پرواہ نہیں کرتے۔

آگے چل کر امام ابن تیمیہ واضح الفاظ میں لکھتے ہیں:

حلاج اپنے کفر کی وجہ سے قتل کیا گیا ، وہ قرآن کا معارضہ کرتا تھا ، اس کا یہ بھی خیال تھا کہ اگر کسی کا حج فوت ہو جائے تو اپنے ہاں کعبہ بنا کر اس کا طواف کر سکتا ہے اور حج کے سوا تمام رسوم ادا کر سکتا ہے اور حج پر جتنی رقم خرچ ہو سکتی ہو اس کو صدقہ دے سکتا ہے۔

امام محترم مزید لکھتے ہیں :

جنید (بغدادی) ، عمرو بن عثمان مکی اور ابو یعقوب (رحمہم اللہ) جیسے جلیل القدر مشائخ نے حلاج کی مذمت کی ہے۔ اگر کوئی شخص حلاج کے متعلق حسنِ ظن رکھتا ہے تو اس کی وجہ محض یہ ہے کہ وہ اصل حالات سے آگاہ نہیں ہے۔

بحوالہ : مجموعہ الرسائل الکبریٰ ، ج:2 ، ص:97 تا 99



تصوف کیا ہے ؟ کیا یہ عین اسلام ہے یا ضد اسلام ہے؟ اس کی چھان بین کرنے کے لئے ایسی ہستیوں کے ملفوظات سے رجوع ہوتے ہیں جو اہل تصوف کہلاتے تھے۔

----------------------------

فرمایا کہ ایک وقت حضرت خواجہ ابراہیم ابن ادھم رحمہ اللہ علیہ راستہ مین چلے جاتے تھے کہ آواز نوحہ کی ایک طرف سے آئی فوراً رانگ گرم کرکے اپنے کانون مین ڈال لیا اور بہرے ہوگئے۔

(انیس الارواح صفحہ 31، ملفوظات خواجہ عثمان ہارونی مرتبہ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری)



گانے بجانے کے موقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کانوں میں انگلیاں دینے پر اکتفا فرماتے تھے۔

فرمایا کہ جس روز حضرت خواجہ ابرا ھیم ا بن ادہم بلخی رحمہ اللہ حکومت اور سلطنت سے تائب ہوئے تو جس قدر غلام تھے سب کو اپنے روبرو آزاد کیا اور بارادہ حج خانہ کعبہ کی راہ لی اور فرمایا کہ حج کو ہر شخص پیرون کے بل جاتا ہے مجکو چاہئے کہ سر کے بل اس راہ کو طے کرون چنانچہ وقت سفر حج جو قدم کہ رکھتے تھے ایک دوگانہ نفل شکرانہ ادا فرماتے تھے حتی کہ چودہ برس کی مدت مین بلخ سے خانہ کعبہ تک پہونچے تو اس مقام پر خانہ کعبہ کو نہ پایا نہایت متحیر ہوئے اسی حال مین ہاتف غیبی نے آواز دی کہ اے ابراہیم ٹھیرو اور صبر کرو کہ خانہ کعبہ ایک ضعیفہ کی زیارت کو گیا ہے ابھی آیا جاتا ہے خواجہ یہ آواز سن کر متحیر ہوئے اورعرض کیا کہ آلہی وہ ضعیفہ کون ہین حکم ہوا کہ جنگل مین ایک ضعیفہ ہے خواجہ علیہ رحمہ روانہ ہوئے تاکہ ان ضعیفہ کی زیارت سے مشرف ہوں جب جنگل مین پہونچے تو حضرت رابعہ بصری علیہا الرحمہ کو دیکھا اور دیکھا کہ خانہ کعبہ ان کے گرد طواف کر رہا ہے حضرت ابراہیم بن ادہم علیہ الرحمہ کو غیرت معلوم ہوئی اور حضرت رابعہ بصری علیہا الرحمہ کو پکارا اور کہا کہ یہ کیا شور تم نے ڈالا ہے رابعہ بصری علیہا رحمہ نے فرمایا کہ یہ شور مین نے نہین اٹھایا ہے۔ شور تم نے جہان مین برپا کیا ہے کہ چلتے چلتے چودہ برس مین خانہ کعبہ تک پہونچے اور پھر بھی اس کو آرزو کے ساتھ نہ پایا جب حضرت ابراہیم ادہم نے یہ سنا فرمایا کہ اے رابعہ تم کو آرزو خانہ کعبہ کی تھی سو تمہارے پاس موجود ہو گیااور ہم کو آرزوئے ملاقات صاحب خانہ کی ہے لہذا وہ ہم سے محجوب کیا گیا۔

(انیس الارواح صفحہ 17,18، ملفوظات خواجہ عثمان ہارونی مرتبہ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری)



یہاں پر واقعہ صلح حدیبیہ یاد کر لیں۔



حضرت بایزید بسطامی (ابویزید طیفور بن عیسی بسطامی) کے بارے میں حضرت خواجہ جنید بغدادی فرماتے ہیں:

ابو یزید منا بمنزلہ جبرئیل فی الملایکہ

ابویزید ہم میں ایسے ہیں جیسے فرشتوں میں جبرائیل



حضرت بایزید بسطامی خود فرماتے ہیں

سبحانی واعظم شانی

میں پاک ذات ہوں میری شان بہت بڑی (اعظم) ہے

حضرت علی ہجویری فرماتے ہیں کہ یہ کہنا ان کی گفتار کا نشانہ ہے اور درحقیقت یہ کہنے والا حق تعالی ہی پردہ عبد میں ہے۔

(کلام المرغوب ترجمہ کشف المحجوب صفحہ 443)



حضرت بایزید بسطامی کے مزید "ارشادات":

خضت بحرا و وقف الانبیا بساحلہ

میں نے سمندر میں غوطہ لگایا اور انبیا ساحل تک رہے



ملکی اعظم من ملک اللہ

میری بادشاہت اللہ کی بادشاہت سے بڑی ہے



ما فی جبتی الا اللہ

میرے جبے میں اللہ کے سوا کچھ نہیں



لوائی ارفع من لواء محمد

میرا جھنڈا محمد کے جھنڈے سے بلند ہے



یہ تصوف کی دنیا کی باتیں ہیں جن کا اسلام سے تعلق واضح نظر آر ہا ہے۔



اس کے بعد عشق کے بارے مین گفتگو ہونے لگی زبان مبارک سے ارشاد فرمایا کہ عاشق کا دل محبت کا آتشکدہ ہے پس جو کچھ اس آتشکدہ(بھٹی) میں پڑ جاتا ہے جلکر خاک ہو جاتا ہے کسواسطے کہ کوئی آگ عشق و محبت کی آگ سے بڑہکر نہین ہے اسکے بعد فرمایا کہ ایک وقت خواجہ بایزید بسطامی رحمہ اللہ مقام قرب مین تشریف لیگئے ہاتف نے آواز دی کہ اے بایزید آج تمہاری خواستگاری اور ہماری بخشش و عطا کا وقت ہے مانگو کیا مانگتے ہو میں تم کو دونگا خواجہ نے فوراً سجدہ مین سر جھکا یا اور کہا کہ بندہ کو خواستگاری سے کیا کام بادشاہ کی بخشش و انعام و اکرام جسقدر ہو بندہ اس مین راضی ہے پھر آواز آئی کہ اے بایزید ہم نے تجکو آخرت کی خوبی اور رستگاری عطا کی۔ بایزید نے عرض کیا کہ آلہی آخرت تو دو ستون کا بندی خانہ ہے پھر آواز آئی کہ اے بایزید اچھا ہم نے بہشت اور دوزخ اور عرش اور کرسی جو کچھ ہماری مملکت ہے تجکو دی۔ عرض کیا خیر پھر ندا آئی کہ اچھا تمہارا کیا مطلب ہے کچھ مانگو تو ہم دین عرض کیا کہ آلہی جو میرا مطلب ہے وہ تو خود جانتا ہے آواز آئی کہ اے بایزید تو ہم کو ہم سے مانگتا ہے اگر ہم تجکو تجھسے مانگین تو تو کیا کریگا۔ جیسے ہی کہ آواز آئی خواجہ نے قسم کھا کر عرض کی کہ قسم ہے تیرے عزت و جلال کی اگر تو مجکو کل قیامت مین طلب کریگا اور آتش دوزخ کے سامنے کھڑا کریگا تو حاضر ہونگا اور کھڑا ہو کر ایسی آہ سرد کھینچوں گا کہ دوزخ کی حرارت زائل ہو جائیگی حتی کہ کچھ نہ رہیگی کیونکہ آتش محبت کے سامنے اسکی کیا اصل ہے جب یزید نے یہ فرمایا ندا آئی کہ اے بایزید ہرچہ جستی بافتی (جس چیز کی تجھ کو تلاش تھی تو نے پا لی)

(ترجمہ دلیل العارفین صفحہ 97 ملفوظات خواجہ معین الدین چشتی مرتبہ خواجہ بختیار کاکی)



اللہ تعالی کا عرش و کرسی او رتمام مملکت کا دیا جانا اور آہ سرد سے آتش دوزخ کی حرارت کو زائل کر دینا قابل غور ہے اور یہ عین اسلام بتایا جاتا ہے۔

خواجہ بایزید نے فرمایا کہ مین مدتون خانہ کعبہ کا طواف کرتا رہاجب مجکو قرب و حضوری عطا کی گئی اسوقت خانہ کعبہ نے میرے گرد طواف کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خواجہ بایزید بسطامی سے لوگون نے پوچھا کہ آپ نے طریقت مین اپنا سلوک کہاں تک پہنچایا ہے فرمایاکہ مین نے یہان تک اپنا سلوک پہنچایا ہے کہ جب مین اپنی دو انگلیون کے درمیان نظر کرتا ہون تو تمام دنیا و مافیہا کو اسمین دیکھتا ہون۔

ترجمہ دلیل العارفین صفحہ 99-100 ملفوظات خواجہ معین الدین چشتی مربہ خواجہ بختیار کاکی)



خانہ کعبہ کا خواجہ صاحب کو طواف کرنا اور ان کا دو انگلیوں کے درمیان دنیا و مافیہا کا دیکھنا توجہ طلب ہے۔



ایک دفعہ شیخ علی مکی رحمہ اللہ علیہ نے خواب مین دیکھا کہ عرش اٹھائے لئے چلا جا رہا ہوں۔ جب صبح ہوئی تو جی مین خیال کیا کہ مین یہ خواب کسکے سامنے بیان کرون جو تعبیر پاوﺅن۔ پھر جی مین کہا کہ بایزید بسطامی سے چل کے دریافت کر۔ اسی فکر مین جب گھر سے باہر نکلا دیکھا تو بسطام مین ایک شور برپا تھا اور خلق رو رہی تھی مین حیران ہو کر کھڑا ہو گیا پوچھا کیا حال ہے کہا خواجہ بایزید علیہ الرحمہ نے انتقال کیا۔ شیخ علی نے سنتے ہی ایک نعرہ مارا اور زمین پر گر پڑے۔ پھر نعرہ مارتے ہوئے بایزید کے جنازہ کے پاس تک پہونچے مگر خلق کے اژدحام سے وہانتک پہونچ نہین سکتے تھے مگر شیخ علی ہزار حیلہ و دشواری سے جنازہ تک آئے اور کندھا دیا۔ بایزید نے آواز دی کہ اے علی جو تو نے خواب دیکھا تھا اسکی یہی تعبیر ہے یہی جنازہ بایزید عرش خدا ہے کہ جو تو سر پر لیے جا رہا ہے۔

(ترجمہ راحت القلوب صفحہ 215 ملفوظات خوجہ فرید الدین گنج شکر مرتبہ نظام الدین اولیا)۔



بایزید کا اپنے جنازے کو عرش الہی سے تشبیہ دینا قابل غور ہے۔ مرنے کے بعد بولنا بھی توجہ کا متقاضی ہے۔ قرآن تو یہ کہتا ہے کہ مردہ لوگ نہ سنتے ہیں نہ جواب دیتے ہیں۔ تصوف عین اسلام ہے کیا واقعی؟



شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اپنی کتاب انفاس العارفین میں اپنے تایا ابو الرضا محمدکے بارے میں لکھتے ہیں :

رحمت اللہ کفش دوز نے بیان کیا کہ ایک موقع پر حضرت شیخ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور میں ان کے سامنے ایک درخت کے نیچے کھڑا تھا کہ آپ کی خدمت میں ایک شخص نے کہا کہ حضرت بایزید بسطامی بعض اوقات کسی کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھتے تو قوت جذب اور شیخ کی گرمی نگاہ سے اس کی روح پرواز کر جاتی تھی۔ آج کل ہم مشایخ کا شور سنتے ہیں مگر کسی کی قوت باطنی میں یہ تاثیر نہیں دیکھی۔ یہ سن کر حضرت شیخ نے جوش میں فرمایا کہ بایزید روحیں نکال تو لیتے تھے مگر جسم میں واپس نہیں لوٹا سکتے تھے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے دل کو اپنے قلب اطہر کے زیر سایہ ایسی تربیت اور وہ قوت عطا فرمائی ہے کہ جب چاہوں کسی کی روح کو کھینچ لوں اور جب چاہوں اسے واپس لوٹا دوں۔ عین اسی وقت شیخ نے مجھ پر نظر کر کے میری روح کھینچ لی اور میں زمین پر گر کر مر گیا اور مجھے اس عالم کا کوئی شعور نہیں رہا سوائے اس کے کہ میں نے اپنے آپ کو ایک بہت بڑے دریا میں غرق پایا۔آپ نے سائل کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اسے دیکھو مردہ ہے یا زندہ ؟ اس نے سوچ کر کہا مردہ ہے۔ فرمایا اگر تو چاہے تو اسے مردہ چھوڑ دوں اور اگر پسند کرے تو اسے زندہ کر دوں! کہنے لگا اگر زندہ ہو جائے تو یہ انتہائی رحمت ہوگی۔ آپ نے مجھ پر دوبارہ توجہ ڈالی تو میں زندہ ہو کر اٹھ کھڑا ہوا۔ تمام حاضرین مجلس حضرت شیخ کی قوت حال سے متعجب ہوئے۔

(ترجمہ از فارسی انفاس العارفین صفحہ 95-96اردو ترجمہ صفحہ 206-207شائع کردہ المعارف لاہور)



زندگی اور موت پر یہ تصرف اسلام کے کس اصول کے تحت قابل تسلیم ہو سکتا ہے؟



غالباً حدیقہ ندیہ میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیدی جنید بغدادی رحمہ اللہ تعالی علیہ دجلہ پر نشریف لائے اور یا اللہ کہتے ہوئے اس پر زمین کی مثل چلنے لگے بعد کو ایک شخص آیا۔ اسے بھی پار جانے کی ضرورت تھی کوئی کشتی اس وقت موجود نہ تھی جب اس نے حضرت کو جاتے دیکھا عرض کی میں کس طرح آوﺅں فرمایا یا جنید یا جنید کہتا چلا آ۔ اس نے یہی کیا اور دریا پر زمین کی طرح چلنے لگا۔ جب بیچ دریا میں پہنچا شیطان لعین نے دل میں وسوسہ ڈالا کہ حضرت خود تو یا اللہ کہیں اور مجھ سے یا جنید کہلواتے ہیں۔ میں بھی یا اللہ کیوں نہ کہوں اس نے یا اللہ کہا اور ساتھ ہی غوطہ کھایا۔ پکارا حضرت میں چلا فرمایا وہی کہہ یا جنید یا جنید جب کہا دریا سے پار ہوا۔عرض کی حضرت یہ کیا بات تھی آپ اللہ کہیں تو پار ہوں اور میں کہوں تو غوطہ کھاوﺅں فرمایا ارے نادان ابھی تو جنید تک تو پہنچا نہیں اللہ تک رسائی کی ہوس ہے اللہ اکبر۔

(ملفوظات مجدد مائتہ حاضر اعلی حضرت احمد رضا خان بریلوی حصہ اول صفحہ 117)



اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میں انسان کی شہ رگ سے بھی قریب ہوں جبکہ تصوف کہتا ہے کہ جنید تک پہنچ پھر اللہ تک جانا۔ یہاں پر شیطان کی مداخلت بھی قابل غور ہے۔



یہ کچھ ہلکا پھلکا تبصرہ تھا شاید آپ کو کچھ معلومات دے سکے

٠٤‏/٠٩‏/٢٠١٠

کیا متکلمین زندیق تھے ؟

علم کلام کے اوپر بہت زیادہ بحث لکھی ہوئی ہے اور سلف صالحین کے نزدیک اس علم کی وجہ سے زیادہ لوگ گمراہ ہوئے ہیں اور وہ زندیق کے درجے پے جا پہنچے میں نے یہ سوچا زرا ان اقوال کو یکجا کر کے آپ کے سامنے رکھا جائے



اب میں آپ کے سامنے دلائل رکھوں گا فیصلہ آپ پے چھوڑوں گا






سلف صالحین نے علم کلام کی مزمت کیوں کی ہے






امت کے سلف صالحین اور ائمہ عظام نے علم کلام کی سختی سے مزمت کی ہے اور انتہائی سختی سے اس میں گھسنے سے روکا ہے جس سے معلوم ہوا کہ وہ اس علم سے نفرت کرتے تھے اور اس کے حصول کی اجازت نہیں دیتے تھے اس وجہ سے کہ نہ تو یہ علم کسی تشنگی علم رکھنے والے کو سیراب کرتا ہے اور نہ جہالت سے بیمار انسان کو شفاء دیتا ہے


اب میں آپ سامنے اس کے رد میں اقوال رکھوں گا،






امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں






ابو یوسف رحمہ اللہ سے کہا ، تم اصول دین یعنی کلام کے بارے میں عام لوگوں سے گفتگو کرنے سے بچ کر رہنا کیونکہ یہ لوگ تمہاری تقلید کریں گے اور اسی میں پھنس جائیں گے ۔ مناقب ابی حنیفہ للمکی صفحہ 373






حماد بن ابی حنیفہ کہتے ہیں میرے والد نے کہا اے حماد ! علم کلام چھوڑ دو ، حماد کہتے ہیں میں نے اپنے باپ کو کھبی خلط ملط کرنے والا نہیں پایا تھا ، اور نہ ان میں سے پایا تھا جو کسی بات کا حکم دیتے ہوں ،پھر اس سے منع کرتے ہوں ، اس لئے میں نے ان سے کہا ابا جان ! کیا آپ مجھے اس کا حکم نہیں دیتے تھے امام صاحب نے کہا ہاں بیٹے ! کیوں نہیں لیکن آج تم کو اس سے منع کرتا ہوں میں نے کہا ، کیوں ؟ انہوں نے کہا ، اے بیٹے یہ لوگ جو علم کلام کے ابواب میں اختلاف کئے بیٹھے ہیں جنہیں تم دیکھ رہے ہو یہ اک ہی قول اور دین پے تھے ،یہاں تک کہ شیطان نے ان کے درمیان کچوکا مارا ، اور ان میں عداوت و اختلاف ڈال دیا ،اور وہ اک دوسرے سے الگ ہو گئے ،


مناقب ابی حنیفہ للمکی صفحہ 183 تا 184






امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں ۔ اللہ عمرو بن عبید پر لعنت کرے ،کیونکہ علم کلام میں جو چیزیں مفید نہیں اس کی بابت گفتگو کا دروازہ اسی شخص نے کھولا ہے ،


زم الکلام للہری صفحہ 28






امام ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ میں علم کلام پے نظر رکھتا تھا یہاں تک کہ اس درجے کو پہنچ گیا کہ اس فن میں میری انگلیوں سے اشار ے کئے جانے لگے کہتے ہیں ہم حماد بن ابی سلیمان کے حلقے میں بیٹھا کرتے تھے ایک دن میرے پاس ایک عورت آئی اور کہا اک آدمی ہے اسکی ایک بیوی ہے جو لونڈی ہے اور وہ اسے سنت کے مطابق طلاق دینا چاہتا ہے کتنی طلاق دے ،مجھے سمجھ نہ آیا کہ میں کیا کہوں ، میں نے اس عورت کو کہا کہ حماد سے پوچھو ، اور مجھے بتانا حماد نے کیا جواب دیا ، وہ حماد کے پاس گئی اور پوچھا ،حماد نے کہا اسے حیض اور جماع سے پاکی کی حالت میں ایک طلاق دے پھر اسے چھوڑ رکھے یہاں تک کہ اسے دو حیض آ جائیں ، پھر جب وہ غسل کر لے تو نکاح کرنے والے کے لئے حلال ہوگئی ۔ اس نے واپس آکر مجھے بتایا ،میں نے کہا مجھے علم کلام کی کوئی ضرورت نہیں ، میں نے اپنا جوتا لیا اور حماد کے پاس آ بیٹھا ۔


تاریخ بغداد جلد 13 صفحہ 333






امام شافعی رحمہ اللہ


امام صاحب فرماتے ہیں شرک کے علاوہ اللہ کےحرام کردہ کسی بھی کام کا ارتکاب علم کلام میں غور کرنے سے بہتر ہے فرماتے ہیں کہ علمائے کلام کے بارے میں میرا فتوی یہ ہے کہ انہیں چھڑی سے مارا جائے پھر انہیں لوگوں میں گھمایا پھرایا جائے اس اعلان کے ساتھ کہ یہ سزا ہے ان لوگوں کی جو کتاب و سنت کو چھوڑ کر علم کلام کو اپنائے ہوئے ہیں


تلبیس ابلیس ابن جوزی صفحہ 82






امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ






امام صا حب فرماتے ہیں ، علم کلام کا حامل شخص کھبی بھی صحیح راستے پر نہیں آ سکتا علمائے کلام زندیق ہیں






المصدر السابق صفحہ 83






امام اوزاعی رحمہ اللہ






امام صاحب فرماتے ہیں جب اللہ تعالی کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارداہ کرتا ہے تو ان کو جدال ومباحثوں میں مبتلا کر دیتا ہے اور عمل سے روک دیتا ہے


شرح اصول اعتقاد اھل السنہ الکائی جلد 1 صفحہ 145






امام ابو یوسف رحمہ اللہ






امام صاحب فرماتے ہیں جس نے کمیاء کے زریعے مال کمانے کی کوشش کی وہ مفلس ہو گیا ،جس نے علم کلام کے زریعے دین حاصل کرنے کی کوشش کی وہ زندیق بن گیا






المصدر السابق جلد 1 صفحہ 147 صون المنطوق والکلام للسیوطی






اسی طرح کے اقوال ابن مدینی ،ابی حاتم الرازی ، ابو زرعہ ، اسحاق بن ابراہیم ، قاسم بن سلام ، لیث بن سعد ،امام مالک ، سفیان ثوری رحمہم اللہ وغیرہ سے بھی منقول ہیں یہ سب امت کے جلیل القدر ائمہ اور علماء متکلمین کی کتابیں پڑھنے سے منع کرتے تھے ان کی محافل و مجالس میں شرکت سے اور متکلمین سے میل جول رکھنے سے روکتے تھے






شرح اصول اعتقاد اھل السنہ جلد 1 صفحہ 151






بہت سے متکلمین جنہوں نے حق کی طرف رجوع کیا






ابن الصلاح کہتے ہیں کہ مجھے قطب طوغائی نے دو مرتبہ بتایا کہ اس نے فخر الدین رازی کو کہتے سنا تھا کہ کاش میں علم کلام میں مشغول نہ ہوا ہوتا یہ کہہ کر فخر الدین رازی رونے لگ جاتے


مقدمہ اعتقادات فرق المسلمین والمشرکین للرازی صفحہ 23


ولید بن ابان الکرابیسی بہت بڑا عالم تھا جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اپنے بیٹوں سے کہا کہ کیا مجھ سے بڑا کوئی علم کلام کا عالم ہے انہوں نے کہا نہیں تو اس نے کہا کیا تم مجھے الزام دو گے برا سمجھو گے انہوں نے کہا نہیں تو اس نے کہا میں تمہیں وصیت کرتا ہوں تم اسے مانو گے انہوں نے کہا ضرور مانیں گے اس نے کہا ،تم محدثین کے راستے کو اپنائے رکھو کیونکہ میں نے حق ان ہی کے پاس دیکھا ہے


تلبیس ابلیس ،ابن جوزی صفحہ 84






ابو معالی الجوینی کہتے ہیں اے ابن جوینی تجھ پے افسوس کہ زندگی کا بیشتر حصہ گنوا دیا اور اپنے ساتھیوں سے کہتا تھا میرے ساتھیوں علم کلام میں مشغول مت ہونا اگر مجھے معلوم ہوتا کہ یہ علم مجھے وہاں پہنچائے گا جہاں پہنچا چکا ہے تو میں‌کھبی اس میں مشغول نہ ہوتا ۔


تلبیس ابلیس ،ابن جوزی صفحہ 58






ابو حامد الغزالی کو بھی علم کلام میں کوئی فائدہ نظر نہ آیا تو انہوں نے بھی آخری عمر میں رجوع کیا اور سمجھ لیا کہ علم کلام میں کوئی فائدہ نہیں ،پھر حفظ قرآن ،صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی طرف توجہ کی، کہا جاتا ہے جب ان کی وفات ہوئی اس وقت صحیح بخاری ان ک سینے پے رکھی ھوئی تھی مگر قرآن و حدیث کے اثرات ان کی کتابوں میں اس لیے نظر نہیں آئے کہ جب انہوں نے قرآن و حدیث کی طرف رجوع کیا تو زندگی نے انہیں اتنی مہلت نہ دی کہ وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں‌کچھ لکھ لیتے۔


التفرقہ بین الایمان والزندقہ ،صفحہ 79 تا 83






امام ابو حسن الاشعری رحمہ اللہ نے بھی معتزلہ کے عقائد سے رجوع کرلیا تھا اور اس بات کا اقرار کر لیا تھا کہ میں مزہب اھل سنت کی طرف اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی طرف خود کو منسوب کرتا ہوں اس وقت اھل سنت کے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تھے


امام ابو حسن الاشعری نے اپنی آخری کتاب اس عقیدے کی حقیقت واضح کرنے کیلئے لکھی جس کا نام ، الابانہ عن اصول الدیانہ ، اور امام ابن قیم نے اپنی کتاب اللو لو والمرجان کے مقرمے میں یہ بات زکر کی ہے


اس مزہب کے بانی اس بات کو نہیں مانتے اور نہ ہی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں اور آج ان کے گمراہ عقیدہ کو پکڑے ہوئے ہیں اور الابانہ عن اصول الدیانہ میں جو امام ابو حسن الاشعری نے سلف صالحین کا قرآن و سنت والا عقیدہ بیان کیا اس کو نہیں لیتے ۔


ان سطور میں جتنے ائمہ کا زکر کیا ہے یہ سب اشاعرہ کے متکلمین کے بہت بڑے نامی گرامی امام ہیں ان سب نے علم کلام کے نہج سے توبہ کی اور اہل سنت کے مزہب کی طرف رجوع کیا ۔اگر علم کلام کا مزہب حق ہوتا تو یہ کھبی اسے نہ چھوڑتے اور اس کے نقائص و عیوب بیان نہ کرتے اور اپنی آخری عمر میں اس سے براءت کا اعلان نہ کرتے افسوس ان بدعتیوں پر خود کو ان ائمہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ان کی تقلید کا دعوی کرتے ہیں مگر ان کی آخری عمر کی حالت سے عبرت نہیں پکڑتے ۔ جہاں تک معتزلہ متکلمین کا تعلق ہے تو ان میں سے کسی کے بارے میں معلوم نہ ہو سکا کہ اس نے توبہ کی ہو اور رجوع کیا ہو اس کی وجہ مزہب کی حقانیت نہیں بلکہ غلو ہے اور ان میں صحیح مزہب کی جستجو بھی نہیں تھی وہ بدعت کے سرغنہ تھے بدعتیں ایجاد کرنے میں ہی مگن رہتے تھے
کيا کوئی انسان نبی کريم  کی زيارت کروا سکتا ھے يا کوئ انسان عرش پے يا عرش سے اوپر جا سکتا ھے



ھم آپ کے سامنے مولانا اشرف علی تھانوی کی کتاب وعظ الحدود والقيود صفحہ 37 سے 39 اقتباس پيش کريں گے



مولانا صاحب سے کسی نے سوال کيا ، قوالی اور سماع سننا کيسا ھے کہ اس ميں آپ کا کيا فيصلہ ھے

تو انہوں نے جواب ديا عزيز من ! تم نے ايسی بات کا سوال کيا ھے جس کا فيصلہ کرنا ھمارا تمہارا کام نہيں بس ميں بجاۓ جواب کے تم کو حکايت سناتا ھوں وہ يہ کہ قاضی ضياء الدين سنامی حضرت سلطان الاولياء سلطان نظام الدين کے ہمعصر تھے سلطان جی صا حب سماع تھے قاضی سنامی ان کو سماع سے منع کرتے تھے ايک بار ايسا ھوا کہ سلطان جی کے يہاں سماع ھو رہا تھا قاضی صاحب اپنی فوج کو ليکر روکنے پہنچ گے يہاں پہنچ کر ديکھا تو اک بڑا شاميانہ لگا ھوا تھا اور اس کے اندر سلطان جی کی جماعت کا اسقدر ہجوم تھا کہ قاضی جی کو اندر جانے کی جگہ نہ ملی تو انہوں نے حکم ديا کہ خيمہ کی طنابيں کاٹ دو کہ مجمع منتشر ھو جاے فوج نے خيمہ کی طنابيں کاٹ ديں مگر خيمہ اسی طرح رہا گرا نہين قاضی صاحب نے اپنی جماعت کو فرمايا دھوکہ نا کھانا بدعتی سے خوارق کا صدور ھو سکتا ھے اور يہ موجب قبول نہيں ،

اس وقت تو وھ واپس ھو گے دوسرے دن حضرت سلامن جی کے مکان پر گے اور فرمايا کہ تم سماع سے توبہ نہ کرو گے سلطان جی نے فرمايا اگر ھم سیدنا محمحد سے پچھوا ديں جب تو تم منع نہ کرو گے کہا پچھوا دو، قاضی صاحب کو سلطان جی کی بزرگی کا علم تھا ، جانتے تھے کہ يہ نبی کريم کی زيارت کراسکتے ھيں ، اس لے سوچا کہ اس دولت کو کيوں چھوڑيں چنانچہ سلطان جی نے ان کی طرف توجہ کی تو ان کو حضور  کی روحانيت مکشوف ہؤی، کہ حضور ان سے فرما رہے کہ فقير کو کيوں تنگ کرتے ہو قاضی سنامی نے عرض کی يا رسول  مجھے کچھ خبر نہيں کی ميں کس حال ميں ہوں جاگ رہا ہوں یا سو رہا ہوں اور صححف طرح سن رہا ہوں اور سمجھ رہا ہوں يا ميں مدہوش ہوں اور حضور  کے جو ارشادات حضرات صحابہ نے بحالت يقظ يعنی حالت بيداری ميں حضور  سے سن کر بيان کہے وہ اس ارشاد سے اولی و ا قدم ہيں يا جو ميں اس وقت سن رہا ہوں اس پر حضور  نے تبسم فرمايا ،اور يہ حالت ختم ہوگٔی، تو سلطان جی نے فرمايا ديکھا ھم نے عرض کيا ، پھر سلطان جی نے قاضی صاحب کے سامنے ہی قوال کو حکم ديا اس نے سماع شروع کيا قاضی صاحب بھی بيٹھے رہے کہ اس بدعت کو يہںا بيٹھ کر توڑوں گا



قوال نے شعر پڑھا سلطان جی کو وجد ہوا اور کھڑے ہو گے قاضی جی نے ہا تھ پکڑ کر بٹھلا ديا تھوڑی دير گزری تھی کہ وجد ہوا اور پھر کھڑے ہو ے اور قاضی جی نے بٹھلا ديا تيسری دفعہ سلطان جی پھر کھڑے ہوے اس دفعہ قاضی جی ہا تھ باندھ کر سلطان جی کے سامنے کھڑے ہو گے ، اس پر قاضی جی کی جماعت کو حيرت ہؤی کہ يہ کيا ہوا ، سب کا خيال تھا کہ اب قاضی صاحب سلطان جی کو منع نہيں کريں گے،جب مجلس ختم ہو گی تو قاضی جی اٹھے اور کہا کہ اچھا پھر آوں گا



واپسی کے وقت قاضی جی کی جماعت نے پوچھا کہ کيا بات ہو ی تھی کہ آپ تيسری دفعہ ہاتھ باندھ کے کھڑے ہو گے قاضی جی نے فر ما يا بات يہ ھے کہ سلطان جی کو پہلی بار جو وجد آيا تھا تو ان کی روح پہلے آسمان تک جا پہنچی تھی يہاں تک ميری بھی رسأی تھی ميں ان کو وہاں سے واپس لے آيا اور بٹھلا ديا ، دوسری بار جو وجد آيا تھا تو ان کی روح عرش کے نيچے جا پہنچی تھی يہاں تک بھی ميری رسأی تھی ،ميں وہاں سے بھی ان کو واپس لے آيا تھا ، تيسری بار جو وجد آ يا تھا تو سلطان جی کی روح فوق العرش جا پہنچی تھی ميں نے چا ہا کہ وہاں سے بھی ان کو واپس لاؤں کہ فرشتوں نے مجھے روک ديا کہ آپ عرش کے اوپر نہيں جا سکتے وہاں صرف نظام الدين ہی جا سکتے ہيں اور اس وقت مجھے عرش کی تجليات نطر آیٔ، يہ سن کر مجمع کی حالت غير ہو گیٔ،



يہ کچھ خرافات تھی جو آپ کے سامےط رکھی ہںہ جو صوفيا ٔ کے ہاں عام ہيں

چليں ان جيسی کہانياں اسلام ميں ديکھتے ہيں پورا قرآن آپ کے سامنے ہے تلاش کريں کہيں کسی نبی يا پيغمبر نے دعوی کيا ہو کہ وہ زمين پے بيٹھے بيٹھے کبھی عرش يا کبھی آسمان پے چلا گيا ہو، بڑے بڑے جليل القدر پيغمبر گزرے ہيں کسی نے بھی يہ دعوی نہيں کيا تھا جو اس قہي ميں مولانا اشرف علی تھانوی صاحب بيان کر رہے ہين اور نا ہی کبھی کسی صحابی نے کویٔ ايسا قصہ بيان کيا،

ہمارے پيارے نبی کريم  نے بھی کی يہ نہيں فرمايا کہ وہ اس طرح عرش پے جا پہنچے ہوں جيسے سلطان جی اور قاضی جی جا رہے تھے پھر قاضی جی کا يہ کہنا کہ جو کچھ وہ اس وقت ديکھ رہے ہيں وہ صحابہ سے بھی اولی و اقدم ہے صحابہ تو نبی کريم  کو کھلی انکھ سے ديکھتے تھے يہ تو صحابہ سے بھی آگے جا رہے ہيں ، قاضی جی کا يہ دعوی کہ سلطان جی نے انکو بيٹھے بيٹھاۓ زيارت کروا دی ،حيرت کا مقام ہے کہ ہميں قرآن اور سنت ميں ايسا قصہ نہيں ملتا جو ان گمراہ اور اوليأ شيطان کی کتابوں ميں مل رہے ہيں فيصلہ آپ کے ہاتھوں ميں ہے آپ قرآن اور سنت کو سامنے رکھ کر فيصلہ کريں

توسل کے عقیدہ میں کون صحیح دیوبند یا امام ابو حنیفہ

http://www.jamiabinoria.net/efatawa/Aqaid/3887.htm


یہ فتوی جامعہ بنوریہ کراچی والوں کا ہے


اس فتوی میں کہا گیا ہے کہ اھل سنت کے نزدیک نبی اور ولی اور شہداء کے طفیل دعا مانگنا جائز ہے دیوبند کے عقائد کی مشھور کتاب المھند علی المفند کے صفحہ نمبر 31 اور سوال نمبر تیسرا اور چوتھا ، اس میں بھی یہ موجود ہے کہ وفات کے بعد انبیاء صلحاء اور اولیاء اور شہداء کا توصل جائز ہے-






اب زرا دیکھتے ہیں کہ کیا یہ عقیدہ امام ابو حنیفہ کا بھی ہے جن کی طرف احناف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں


امام صاحب نے کہا ، کسی کیلئے درست نہیں کہ وہ اللہ سے دعا کرے مگر اسی کے واسطے سے ،اور جس دعا کی اجازت ہے اور جس دعا کا حکم ہے وہ وہی ہے جو اللہ تعالی کے اس قول سے مستفاد ہے ٭ سورة الاٴعرَاف آیت 180 ٭ اور اللہ کے سب نام اچھے ہی ہیں۔ تو اس کو اس کے ناموں سے پکارا کرو اور جو لوگ اس کے ناموں میں الحاد اختیار کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اس کی سزا پائیں گے ،


الدر المختار مع حاشیہ رد المختار 6/ 396 ، 397






عقیدہ شرح الطحاویہ میں امام ابو حنیفہ کا عقیدہ بیان کیا گیا ہے صفحہ نمبر 234 پے


ابو حنیفہ نے کہا ، مکروہ ہے کہ دعا کرنے والا یوں کہے کہ میں بحق فلاں ، یا بحق انبیاء ورسل تیرے ، یا بحق بیت حرام و مشعر حرام تجھ سے سوال کرتا ہوں






یہ فتوی اور دیوبند کا عقیدہ کی کتاب میں موجود عقیدہ سرا سر امام ابو حنیفہ کے عقیدہ سے ٹکرا رہا ہے






اب فیصلہ کریں کون عقیدہ میں صحیح ہے امام ابو حنیفہ جو قرآن و سنت والا عقیدہ رکھتے ہیں یا علماء دیوبند جن کا عقیدہ قرآن سے بھی ٹکراتا ہے اور امام ابو حنیفہ سے بھی بحوالہ ،


ابھی ابتداء ہے آگے اور بھی ایسے ہی ٹکرانے والے عقائد بیان کروں گا انشاءاللہ

احناف اپنے امام ابو حنيفہ کی عقيدہ ميں تقليد کيوں نہيں کرتے

اسلام علیکم

امام ابو حنيفہ کا عقيدہ احناف کے نزديک صحيح نہيں ہے اسی لیے احناف امام صاحب کا عقیدہ نہیں لیتے ، احناف کا کہنا ہے کہ ہر فن کا ايک امام ہوا کرتا ہے ہر فن ميں ايک ہی انسان ماہر نہیں ہوا کرتا ، احناف کے نز دیک امام صا حب عقيدہ کے ماہر نہيں ہيں اس لیے وہ امام ابو حنیفہ سے عقیدہ نہيں لیتے۔

ہمارا سوال احناف سے يہ ہے کہ کيا ان کے نزدیک امام ابو حنيفہ کے پاس عقيدہ کا علم نہيں پہنچ سکا تھا،اور جو تھا وہ احناف کے نزديک قابل حجت نہيں،اور اسلام ميں عقيد ہ ہی اساس ہو تا ہے جس کو آ پ اما م اعظم کا خطاب دے رہے ہيں اگر آپ کے نزديک اس کا عقيدہ ہی ٹھيک نہيں تو باقی چيزيں کيسے ٹھيک ہيں، اور جو چيزيں امام ابو حنيفہ کی طرف احناف منسوب کرتے ہيں وہ امام صاحب کی طرف جھوٹ بھاندھتے ہيں امام صاحب ان لوگوں سے بری الزمہ ہيں يہ احناف کا بھتان ھے امام صاحب پے ،جو فقہ کے نام پے امام صاحب کی طرف منسوب کيا جاتا ھے ،کيونکہ يہ گندگی ہے جو امام صاحب کی نہيں ھو سکتی،کيونکہ ہم جانتے ہيں کہ امام صاحب اس طرح کی باتيں نہيں کہ سکتے،يہ کام ان گمراہ کفريہ اور شرکيہ عقيدہ رکھنے والوں کے ہيں احناف عقيدہ امام ابو منصور ماتوريدی سے ليتے ہيں جو کہ متعزلہ کا عقيدہ رکھتا تھا جو کہ امام ابو حنيفہ کے عقيدہ سے ٹکراتا ہے امام ابو حنيفہ کا عقيدہ ہے کہ اللہ عرش پے استواء ہے اور جو يہ کہتا ہے کہ مجھے نہيں پتا اللہ کہا ں ہے وہ کفر کرتا ھے ، ٭ عقيدہ طحاويہ ص 301)

ابو منصور ماتوريدی کا عقيدہ کفريہ ا ور شرکيہ ہے وہ يہ کہتا تھا کہ اللہ ہر چيز کے اندر ہے فاعل بھی اللہ ہے اور مفعول بھی اللہ ، اور وہ يہ بھی کہتا تھا کہ زانی اور زانيہ بھی اللہ ہے نعوزباللہ ، اس شخص کے اس کفريہ عقيدہ کی وجہ سے شيخ عبدالقادر جيلانی نے اپنی کتاب غنيہ الطالبين ميں احناف کو مرجيہ کہا ہے ، اس گندے عقيدہ کی وجہ سے احناف امام ابو حنيفہ کے نزديک کفر کر رہے ھيں کيونکہ ابو منصور ماتوريدی کا عقيدہ امام ابو حنيفہ کے ساتھ ٹکراتا ہےاس عقيدہ کی وجہ سے ا یک صحيح عقيدہ انسان کيسے کہ سکتا کہ يہ امام ابو حنيفہ کے ماننے والے ہيں ان کو آپ صرف ديوبندی يا بريلوی کہ سکتے ہيں

ميرے يہ سوالات نام نہاد احناف سے ہيں کہ وہ امام ابو حنيفہ کا صاف ستھرا عقيدہ چھوڑ کر اک گمراہ انسان کے عقيدہ کو کيوں تقلید کر رہے ہيں